جمعہ، 1 جولائی، 2011

میری بیوی نجمہ اور میرا دوست چوہدری۔ قسط 1

میرا نام ندیم ہے اور یہ میری بیوی نجمہ کے ساتھ بیتی ایک داستان ہے جو بالکل سچے سچی ہے یہ واقعات دو ماہ قبل واقعہ ہوئے۔ میں اس داستان کو آپ سب کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں اور ہر رات یہ واقعات قسط وار شائع کروں گا۔

میں ہر روز جم جاتا ہوں اور وہاں میرے ساتھ ایکسر سائز کرنے والا چوہدری میرا دوست بن گیا۔ آہستہ آہستہ یہ روٹین بن گئی کہ ہم لوگ پورا ہفتہ اکٹھے جم کرتے اور ویک اینڈ پر پینے پلانے کا شغل بھی اکٹھے کرنے لگے۔
ہر اتوار کی طرح اس بار بھی ہم شام کو چھے بجے ڈرنک کرنے ڈھابے پہنچے اور پینے کا دور چلنے لگا۔ دو گھنٹے پینے کے بعد چوہدری بولا "چل یار! ہاسٹل چل کر دوستوں سے مل کر آتے ہیں"۔ چوہدری کے کچھ دوست ہاسٹل رہتے ہیں جن سے میں کافی دفعہ نہ صرف مل چکا تھا بلکہ ان سے میری بھی اچھی دوستی ہو چکی تھی سو میں نے ہاں میں گردن ہلا دی۔ ہم ان سے ملنے ہاسٹل پہنچے اور وہاں سے ہم سب اکٹھے گھومنے کو لانگ ڈرائیو پر نکلے۔ یہ ہماری روٹین بن چکی تھی کہ پینے کے بعد ہم چوہدری کے دوستوں کو ہاسٹل سے لے کر لانگ ڈرائیو پر نکلتے اور شہر سے باہر ایک نسبتاً ویران ڈھابے پر، جو ٹرک ڈرائیوروں کے لیے بنایا گیا تھا، رکتے اور ایک ایک بیئر مزید مارتے اور اس کے بعد اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے۔ اس بار بھی ہم نے یہی کیا اور شہر سے باہر ڈھابے پر بیئر پیتے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ اس دوران چوہدری کی گرل فرینڈ کا فون آیا جسے اٹینڈ کرنے کے لیے وہ باہر نکل گیا۔ جب بھی چوہدری کی گرل فرینڈ کا فون آتا وہ تقریباً آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹے تک طویل ہوتا تھا۔ اس کے جاتے ہی ایک دوست بولا "سالا گرل فرینڈ صرف چودنے کے لیے بناتا ہے اور ہر چار پانچ مہینے بعد گرل فرینڈ بدل لیتا ہے۔ میں نے کہا "یار! سب لوگ ایسے ہی کرتے ہیں کہ لڑکی صرف چودنے کے لیے پھنساتے ہیں۔"
اس کا ایک دوست بولا "اس بار بھڑوے نے کسی شادی شدہ لڑکی کو پٹایا ہے اور کیا چکنی چیز ہے سالی۔ شوہر ڈاکٹر ہے اور ڈیوٹی سے رات کو ہی لوٹتا ہے۔ جب اس کا شوہر شہر سے باہر ہو یا ہسپتال میں ہو تب چوہدری اس کی بیوی کو گھماتا پھراتا اور خوب چودتا ہے۔"
ایک دوست بولا "کئی بار تو ہمارے ہاسٹل میں بھی  لا کر چودا ہے سالی کو۔۔۔ لیکن بہن چود کبھی اپنی گرل فرینڈ ہم سے شیئر نہیں کرتا بلکہ اس کا موبائل نمبر تک نہیں دیتا ہمیں۔"
اسی دوران چوہدری واپس آ گیا لیکن میں نے اس کے ہاسٹل کے دوستوں کے سامنے اس سے کچھ پوچھا نہیں۔ اس کے بعد میں نے ان دوستوں کو ہاسٹل ڈراپ کر دیا۔ اب کار میں صرف میں اور چاہدری رہ گئے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا "بیٹاً آخر یہ معاملہ کیا ہے اور کون ہے وہ لڑکی؟"
"یار ہے ایک ڈاکٹر کی بیوی جو اسے سارا دن باہر رہتا ہے اور اسے زیادہ ٹائم نہیں دے پاتا۔" چوہدری نے ہنستے ہوئے بتایا۔
پھر میں نے پوچھا "یار! تُو نے اسے پٹایا کیسے؟"
چوہدری بولا "کچھ نہیں یار! ایک دن اس کا شوہر میرے ہوٹل میں آیا تھا، اس کے کسی کزن کی شادی تھی جس کے لیے اس نے کمرے بک کروائے۔ میں نے اچھی سروس دے دی اور ڈسکاؤنٹ بھی اچھا دیا، بس اس کے بعد اس سے اچھی جان پہچان ہو گئی۔ وہیں میں اس کی بیوی سے ملا تھا۔ ڈاکٹر کو کچھ دن کے لیے شہر سے باہر جانا پڑا تھا اور اس نے اپنی بیوی کا موبائل نمبر دے دیا کہ بل وغیرہ کے معاملات  کے لیے میں اس سے راابطہ کر لوں۔ میں نے بل کے بہانے اس کی بیوی سے فون پر رابطہ رکھا اور اس دوران چکنی چپڑی باتوں سے اسے پٹا لیا۔"
 میں بولا "واہ یار یہ تو زبردست کام کیا تو نے۔"
چوہدری بولا "یار شادی شدہ لڑکیاں زیادہ سیکس کی بھوکی ہوتی ہیں اور جلدی پٹ جاتی ہیں لیکن فن آنا چاہیے انھیں پٹانے کا تو کوئی بھی شادی شدہ عورت پٹائی جا سکتی ہے۔
پھر میں نے چوہدری کو گھر اتارا اور خود اپنے گھر آ گیا۔ گھر پہنچ کر میں نے اپنی کیوٹ بیوی نجمہ کو چودا اور سو گیا۔
نجانے کیوں اگلا سارا دن میں یہی سوچتا رہا کہ کیا واقعی چوہدری سچ کہہ رہا تھا کہ ہر شادی شدہ عورت کو اتنی آسانی سے پٹایا جا سکتا ہے۔ شام کو جم میں چوہدری ملا اور بولا "یار میرا بٹوہ شاید تیری کار میں رہ گیا ہے۔"
میں نے کہا "یار پتا نہیں! کار میں تو نہیں دیکھا۔۔۔ ہاں آج صبح میری بیوی نے کار کی صفائی کی تھی۔۔۔ اس نے نکال کر رکھ نہ دیا ہو۔۔۔ تُو شام کو گھر آ جا میں دیکھ لوں گا اگر ہوا تو۔۔۔"
اس نے کہا "ٹھیک ہے! میں شام کو آؤں گا۔"
میں نے کہا "یار جب گھر آ ہی رہا ہے تو ڈنر بھی وہیں کر لینا۔"
وہ بولا "ٹھیک ہے۔"
میں نے فون پر اپنی بیوی نجمہ سے کہا کہ آج رات ایک دوست آ رہا ہے تو کھانا ذرا اچھا بنا لینا۔
رات کو چوہدری پہنچا تو ہم نے پہلے ڈرنک کرنا شروع کیا۔ ڈرنک کرتے ہوئے چوہدری بولا "یار تپو تو بڑا خوش قسمت ہے کہ تجھے اتنی سیکسی بیوی ملی ہے۔ کاش مجھے بھی اتنی ہی سیکسی بیوی مل جائے تو زندگی کا مزا آ جائے۔"
یہ سن کر میں ہنس پڑا اور وہ بھی ہنسنے لگا لیکن ساتھ ہی ساتھ میں اس کی آنکھوں میں اپنی بیوی نجمہ کے لیے ہوس دیکھ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ نظروں سے میری بیوی کا ریپ کر رہا ہو۔ نجمہ جب بھی جھک کر اسے کھانا یا پانی پیش کرتی وہ براہ راست نجمہ کے گریبان میں سے جھانکتے اس کے مموں کو گھورنے لگتا۔ نجانے کیوں اچانک مجھے خیال آیا کہ اگر چوہدری کی گرل فرینڈ کی جگہ نجمہ ہوتی تو کیا ہوتا اور یہ سوچ کر میرا لوڑا کھڑا ہا گیا۔ ڈنر کے دوران چوہدری نجمہ کے ساتھ باتیں کرتے کرتے اس کے ساتھ کافی گھل مل گیا تھا اور اس سے کافی دوستی کر لی تھی جس میں وہ کافی ماہر تھا۔ ڈنر کے بعد ہم نے سگریٹ پیے اور پھر چوہدری کو بائے بول کر میں اور نجمہ سونے چلے گئے۔
ساری رات میں یہی سوچتا رہا کہ اگر چوہدری نے میری بیوی کو پھنسا لیا اور چود دیا تو۔۔۔ بجائے غصہ آنے کے میرا لوڑا اس سوچ سے کھڑا ہو گیا تھااور میں نجمہ کو بے حد جوش سے چودنے لگا۔ میں نے سوچا کہ اگر صرف سوچ کر اتنا مزا آ رہا ہے تو حقیقت میں نجمہ کو چوہدری کے نیچے ننگی لیٹے ہوئے اس کے لوڑے سے چدواتے دیکھ کر کتنا لطف آئے گا۔ میں اس قسم کی باتیں سوچ کر سیکس اور ہوس سے پاگل ہو رہا تھا کہ چوہدری میری بیوی نجمہ کو فرنچ کس کر رہا ہے۔۔۔ چوہدری میری بیوی نجمہ کو لانگ ڈرائیو پر گھمانے لے جا رہا ہے اور نجمہ کی شلوار کے اوپر سے اس کی چکنی سڈول رانوں پر ہاتھ پھیر رہا ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
اگلے روز بھی سارا دن میں دفتر میں یہی کچھ سوچتا رہا۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر مجھے کیا ہو رہا  ہے، کیوں ایسی سوچیں آ رہی ہیں۔۔۔  شام کو جم گیا تو وہاں چوہدری ملا اور ملتے ہی بولا "یار آج ایکسرسائز کا بالکل دل نہیں کر رہا۔۔ چل کہیں گھومنے چلتے ہیں۔"
میں نے او کے کر دیا اور ہم لوگ ڈرائیو پر نکل گئے۔
چوہدری مجھ سے بولا "یار چل میرے فارم ہاؤس پر چلتے ہیں۔۔۔ وہاں بیئر پیتے ہیں۔" ہم نے بیئر کی چار بوتلیں، کھانے کے لیے چکن کباب اور تندوری نان لیے اور کوئی پندرہ بیس منٹ میں ہم اس کے فارم ہاؤس پہنچ گئے جو کہ شہر سے بمشکل تمام پندرہ بیس کلو میٹر کی دوری پر تھا۔
چوہدری کا فارم ہاؤس زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن اچھی طرح سلیقے سے سیٹ کیا ہوا تھا۔ ایک خاصا بڑا سا گھر تھا جس کے چاروں اطراف میں باغ تھا۔
فارم ہاؤس پر چوہدری نے ایک پٹھان کو اس کی فیملی سمیت رکھا ہوا تھا جو حفاظت، دیکھ بھال اور باغبانی کے ساتھ ساتھ مہمانوں کی خاطر تواضع بھی کرتے تھے۔ راستے سے ہی چاہدری نے گارڈ کو فون کر کے اسے ایک کمرہ صاف کر کے اس میں کرسیاں میز لگانے کا کہہ دیا تھا جو ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی لگا دی گئی تھیں۔
ہم اس کمرے میں بیٹھ کر بیئر پینے اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ میں نے جان بوجھ کر چوہدری سے اس کی شادی کا موضوع چھیڑ دیا۔ جس پر وہ کہنے لگا "یار ابھی شادی کا نہیں بلکہ کھیلنے کودنے اور عیاشی کرنے کا وقت ہے۔" جس پر ہم دونوں ہنس پڑے۔ اس دوران ہم کافی پی چکے تھے۔ چوہدری بولا "یار ندیم تُو کچھ بھی بول لیکن تُو بہت خوش قسمت ہے۔"
میں نے پوچھا "وہ کیسے بھائی؟"
اس پر وہ بولا "یار تجھے اتنی سیکسی بیوی مل گئی ہے، مجھے بھی اتنی ہی سیکسی لڑکی مل جائے تو فوراً شادی کر لوں۔" لیکن یہ جملہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نجمہ کے لیے جو ہوس تھی وہ قابلِ دیدتھی۔
میں نے کہا "ہاں یار! خوش قسمت تو میں واقعی ہوں۔"
پھر چوہدری مجھ سے پوچھنے لگا "یار نجمہ بھابھی کی کوئی بہن وہن نہیں ہے کیا؟"
میں نے پوچھا "وہ کیوں؟"
اس نے کہا "یار اگر ہے تو میں اس کو ہی پٹا لوں گا۔ آخر وہ بھی تو اپنی بہن کے جتنی ہی سیکسی ہو گی نا اور نجمہ بھابھی جیسا ہی ٹیسٹ ہو گا اس کا بھی۔" یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگا اور میں بھی مسکرا دیا۔
مجھے اس کی باتوں پر ذرا بھی غصہ نہیں آ رہا تھا بلکہ میں یہ تصور کر رہا تھا کہ چوہدری میری بیوی نجمہ کے ساتھ بیٹھا ہے اور اس کے ساتھ مستیاں کر رہا ہے۔
یہی سب سوچ سوچ کر میرا لوڑا کھڑا ہوا جا رہا تھا۔ پینے اور کھانے کے بعد ہم لوگ واپس لوٹے تو راستے میں مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ کچھ ایسا کیا جائے جس سے چوہدری کو نجمہ سے یاری گانٹھنے کا موقع مل سکے اور ان کے بیچ نزدیکی  بڑھے اور سیکس کا تعلق قائم ہو سکے۔ تھوڑی دیر ایسی ہی باتیں سوچ کر میں نے بعد چوہدری سے کہا "چوہدری! یار کل تپو کیا کر رہا ہے؟"
اس نے کہا "کچھ بھی ایسا خاص نہیں۔ تُو بتا کیا کوئی پلان ہے؟"
میں نے کہا "یار تُو نے آج اپنا فارم ہاؤس دکھایا اور وہاں مجھے پارٹی بھی دی۔۔۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کل تُو ڈنر میرے ساتھ میرے غریب خانے پر کر لے۔ بول آئے گا نا؟"
چوہدری بولا "ہاں ہاں یار کیوں نہیں! ضرور آؤں گا۔ تُو ٹائم بتا دے۔"
میں نے کہا "آٹھ بجے آ جانا۔۔۔ تھوڑی بہت پی لیں گے اور پھر ڈنر اکٹھے کریں گے اور ڈنر نجمہ خود اپنے ہاتھ سے بنائے گی۔" جیسے ہی میں نے نجمہ کا نام لیا چوہدری کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں ہوس آ گئی۔
مجھے بہت تجسس ہو رہا تھا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ مجھے اپنا پلان آگے بڑھتا دیکھ کر خوشی بھی ہو رہی تھی اور ڈر بھی لگ رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ جب چوہدری گھر آئے گا تو کیا نجمہ اس سے دوستی کرے گی ،اکیا وہ چوہدری کو قریب آنے دے گی، کیا نجمہ چوہدری کو چودنے دے گی، کیا میرا اپنی بیوی کو دوسرے مرد سے چدوانے کا پلان کامیاب ہو گا یا نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ یہی سب سوچ سوچ کر میرا لوڑا تو کھڑا ہو رہا تھا لیکن ساتھ ہی عجیب سا ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں نجمہ کو معلوم تو نہیں ہو جائے گا کہ میں نے خود اسے کسی اور سے چدوانے کا مکمل پلان بنایا ہے، وہ غصہ تو نہیں کر جائے گی۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ میری بیوی بھلا کیوں برا مانے گی، میں نے چوہدری کو صرف رات کو کھانے پر ہی تو بلایا ہے۔ گھر پہنچ کر میں نے نجمہ کو بتایا کہ میں نے کل رات کو چوہدری کو کھانے پر بلایا ہے۔ یہ سن کر اس نے کسی خاص رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔
اگلے روز رات کو دروازے کی بیل بجی۔ میں نے نجمہ سے کہا کہ جا کر دروازے پر دیکھے کہ کون ہے، شاید چوہدری ہو گا۔

آگے کیا ہوا؟ یہ جاننے کے لیے بلاگ کو مسلسل وزٹ کرتے رہیں۔

اگر کوئی لڑکی مجھ سے سیکس کرنا چاہے یا کوئی جوڑا گروپ سیکس یا وائف سویپنگ یعنی بیویوں کی ادلی بدلی میں دلچسپی رکھتا ہے تو مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ مکمل رازداری کی ضمانت۔
pagal.nadeem @ gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ایک تبصرہ شائع کریں